اورائی بلاک کے سیلاب زدہ کئی گاؤں کی حالت ابتر
ضلع انتظامیہ کی جانب سے کوئی امداد ابھی تک نہیں پہنچی،عورتوں اور بچوں کا براحال ہے، خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا نے مدد کی اپیل کی
اکرام الحق
اورائی:کئی روز سے ہورہی شدید بارش سے ضلع کے اورائی بلا ک کے کئی گاؤں میں سیلاب کا پانی داخل ہوگیا ہے جس کی وجہ سے آس پاس کے کئی گاؤں کی حالت ابتر ہے۔
اطلاع کے مطابق مظفر پور کے علاوہ سہرسہ، سپول، مغربی چمپارن، مدھوبنی، دربھنگہ،سیتامڑھی، گوپال گنج، نالندہ، نوادہ اضلاع کے 27 بلاک کے 491 دیہات کے لوگ سیلاب سے متاثر ہیں۔ اورائی بلاک کے ببھنگواں،ہرنی ٹولہ،بارہ مہوارہ سمیت کئی گاؤں میںسیلاب کا پانی گھس جانے سےان گاؤں کا سڑک رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرکے لوٹے خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے ایک وفد نے بتایا کہ ان گاؤں کی حالت بہت خراب ہے ۔کھانے پینے کی اشیا ء سب سیلاب میں بہہ گئیں ہیں۔یہاں جانی نقصان تو نہیں ہوا ہے مگر مالی نقصانات کا اندازہ لگانا ابھی مشکل ہے۔سرکار کی جانب سے کوئی امداد ابھی تک نہیں پہنچی ہے، جبکہ انہیں فوری طور پر امداد کی سخت ضرورت ہے۔آسمان پر منڈلاتے بادلوں کو دیکھ کر ہی سڑکوں پر کھلے آسمان کے نیچے پناہ لیے ہوئے سیلاب زدگان کی حالت دگر گوں ہوجاتی ہے۔عورتوں اور بچوں کا براحال ہے مگر ان کوئی پر سان حال نہیں ہے،مقامی انتظامیہ کی جانب سے کسی طرح کی مدد نہیں مل رہیہے۔عوامی سطح پر لوگ ان کی مدد کر رہے ہیں مگر یہ کافی نہیں ہے،انسانی ہمدردی کا ثبوت دیتے ہوئے صاحب ثروت حضرات کو مدد کیلئے آگے آناچاہئے۔وفد نے بتایا کہ سر دست انہیں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ،ترپال،لکڑی،دواؤں کی سخت ضرورت ہے تاکہ کسی بھی وبائی بیماری سے انہیں بچایا جا سکے۔ بتادیں کہ باگھمتی ندی کے کنارے واقع گاؤں میں سیلاب کا پانی ہرسال داخل ہوجاتا ہے،اس کے باوجود ان علاقوں کیلئے سرکار کی طرف سے پیشگی کوئی انتظامات نہیں کیے جاتے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ کئی روز مسلسل ہو رہی بارش سے لوگ پریشان تھے ہی کہ گزشتہ شب آخری پہر میں جب لوگ اپنے اپنے گھروں میں سورہے تھے کہ سیلاب کا پانی داخل ہوگیا۔گاؤں کے لوگوں کو کچھ سمجھ میں آتا پانی ان کے گھروں میں داخل ہوگیا اور سب کچھ پانی کی نذر ہوگیا۔لوگ اپنے گھر وں سے کھانے پینے کی اشیا ء بھی محفوظ مقام پر منتقل نہیں کرسکے اس لئے سب پانی میں تباہ و بردباد ہوگیا۔ گاؤں والے اپنى جان بچانے کے لئے گھروں کى چھتوں پر نظر آ رہے ہيں۔نیچے سیلاب کا پانی اور اوپر سےبارش نے ان کی پریشانیوں میں اضافہ کردیا ہے۔ بارش یوں ہی ہوتی رہی تو علاقے کی صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

Comments
Post a Comment