موت دوست کی ہو یا دشمن کی ،کوئی پتھر دل انسان ہی ہوگا جس کااس غمناک خبر کو سن کر کلیجہ منہ کو نہیں آتا ہو،مگر سیاست ایک ایسی منڈی ہے جہاں موت پر بھی سودے بازی ہوتی ہے۔ آج عالمی سطح پر بالخصوص عالم اسلام پر ایک اچٹتی نظریں ڈالیں توشاید ہی چند ممالک ایسے بچ جائیں جہاں موت پر سیاست نہیں ہورہی ہو۔کرسی اور اقتدار کے حصول کے لئےجاری موت کے اس کھیل کا الگ الگ نام دیا گیاہے۔کوئی ظلم کے خلاف تو کوئی انتہاپسندی کے خلاف معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہاہے،یعنی دونوں طرف سے زندگی شکست کھارہی ہے ۔
Popular posts from this blog
کوئی بھی کام حسن نیت کے بغیر ترقی اوردرجہ کمال کو نہیں پہنچتا
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے اعزاز میں تہنیتی تقریب کا انعقاد کوئی بھی کام حسن نیت کے بغیر ترقی اوردرجہ کمال کو نہیں پہنچتا خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے منعقدہ تقریب میںمقررین نے نئی نسل کو بچوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے پر زور دیا نئی دہلی(آئی این این 2 ستمبر ۲۰۱۹)اگر ارادہ اور حوصلہ بلند ہو تو دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں ہے،عز م مصمم کی وجہ سے کئی بار ایسے معجزے دیکھنے میں آئے ہیں جس کے متعلق انسان سوچ بھی نہیں سکتا،مگر اس کے لئے اخلاص و للہیت شرط اول ہے۔جو کام اخلاص کے ساتھ مرضی رب کے لیے شروع کیا جاتاہے،اس میںغیبی مدد کے ساتھ برکت ہوتی ہے اور اللہ پاک اسے ترقی اور عروج عطا کرتا ہے نیز وہ دیر پا ثابت ہوتا ہے۔میں نے بھی چھوٹی موٹی کوشش کی ہے،بہار کے انتہائی پسماندہ خطے سیمانچل میں علم کا ایک چراغ روشن کیا اور وہیں سے قوم کے بچوں کو تعلیم و تربیت سے آراستہ کرنے کی جدوجہد جاری ہے ،بس اللہ پاک اسے قبول فرمائے۔ان خیالات کا اظہار نامور عالم دین ڈاکٹر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار نے کیا۔ رفاہی...

Comments
Post a Comment