Posts

اب دلّی دورنہیں!

Image
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب    اس وقت ملک کے جو سیاسی حالات ہیں اس پر غور و خوض کریں تو ایسا نہیں لگتا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں قومی راجدھانی دہلی پر قبضہ کرنا بھارتیہ جنتا پارٹی کے لئے کوئی مشکل کا م ہو۔خاص طور پر پی ایم مودی اور بی جے پی کے صدر امت شاہ کی موجودگی میں بی جے پی اپنے اس ہدف کو بہ آسانی حاصل کرلے گی۔کرناٹک،گوا اور مغربی بنگال میں جو سیاسی اتھل پتھل جاری ہے اور جس طرح سے اپوزیشن پارٹیوں کی وکٹیں گر رہی ہیںاور ہر سطح پربی جےپی کا اسکور روز افزو بڑھ رہا ہے اس سے یہی اندازہ ہوتا ہے کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے جن ریاستوں پر نشانہ سادھ رکھا ہےاگر موجودہ صورت حال برقراررہی تو کسی پارٹی میں اتنا دم خم نہیں کہ وہ کنول کو کیچڑ میں گاڑ سکے۔ کانگریس پارٹی اس وقت اپنے برے دور سے گزر رہی ہے اس لئےآنے والے دنوں میں ہندوستان پر سب سے زیادہ حکومت کرنے والی یہ پارٹی کچھ کر سکے گی یہ کہنا ’دور کی کوڑی‘ ہے۔بغیرسربراہ کے ایک گھر اور خاندان آگے نہیں بڑھتا ہے تو ملک کی اتنی بڑی سیاسی پارٹی بغیر کیپٹن کے کس طرح سے صحیح رخ پر چلے گی اور اس کا کام کاج کی...

http://urdu.news18.com/photogallery/nation/iftar-kit-distributed-by-khidmat-khalq-trust-in-okhla-delhi-271385-page-6.html

http://urdu.news18.com/photogallery/nation/iftar-kit-distributed-by-khidmat-khalq-trust-in-okhla-delhi-271385-page-6.html

خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے ’افطار کٹ‘ تقسیم کیا گیا

Image
نئی دہلی:رفاہی تنظیم خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی رمضان المبارک کے موقع پر نئی دہلی کے جامعہ نگر واقعہ جوگابائی ایکسٹینشن میں پہلوان چوک پر ’افطار کٹ‘ تقسیم کیا گیا۔افطارکٹ حاصل کرنے والوں میں بڑی تعداد خواتین کی تھی۔اس سلسلہ میں منعقد مختصر پروگرام میں سماجی کارکن شعیب خان،مولانا نسیم مظاہری،ڈاکٹرشہاشب الدین ثاقب قاسمی (جنرل سیکریٹری)محمد نسیم،محمد شمیم،محمد سرفرازنے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔رمضان کریم میں ٹرسٹ کی جانب سے افطار کٹ اور عید گفٹ کا انتظام بڑے اہتمام سے کیا جاتا ہے جس سے حاجت مند مستفید ہوتے ہیں اور ہمدردان قوم و ملت کو دعائیں دیتے ہیں۔ٹرسٹ کے سیکریٹری نے اس موقع پر کہاکہ وسیع پیمانے پر یہ انتظام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کو ئی شخص رمضان کریم میں فاقفہ اور پریشانی میں مبتلا نہ ہوں۔انہوں نےکہاکہ نام و نمود کیلئے مسلمان اپنی دولت لٹا دیتے ہیں جس سے گناہ ہی ملتا ہوتاہےمگر نیکی اور بھلائی کے وہ کام جس سے آخرت سنورجائے اور وہ آسانی سے جنت کا حقدار بن جائیں ایسے امور میں مسلمانوں کی عدم دلچسپی افسوس ناک ہے۔ انہوں نے کہاکہ حدیث پاک میں ہےکہ’جس شخص نے کسی روز...

بدلے بدلے میرے سرکار نظر آتے ہیں!

Image
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب    ۱۹؍مئی کو ہونے والےلوک سبھا کے آخری مرحلے کے انتخابات سے قبل سیاسی معرکہ آرائی تیز ہو گئی ہے۔اسی مرحلے میں وزیر اعظم نریندر مودی کے پارلیمانی حلقہ وارانسی میں بھی ووٹنگ ہونی ہے اس لئے وارنسی سب سے زیادہ انتخابی تشہیر کا مرکز بنا ہواہے۔ اس سیٹ پر کانگریس پارٹی کے لیڈر اجے رائے اور ایس پی۔بی ایس پی اتحاد کی امیدوار شالنی یادو سمیت تقریبا۲۶؍ امیدوار پارلیمنٹ پہنچنے کے لئے اپنی قسمت آزما رہے ہیں۔ وارانسی سیٹ سے پی ایم مودی انتخابی میدان میں ہیں جس کا اثر اطراف کی سیٹوں پرپڑنا یقینی ہے ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کا وقار بھی داو پر ہے۔یہی وجہ ہےکہ تمام  سیاسی جماعتوں نے باقی ماندہ پارلیمانی حلقوں کی تشہیری مہم کیلئے اپنی طاقت جھونک دی ہے۔ غور کریں تواس بار ویسے  مغربی بنگال شروع سے ہی سیاسی اکھاڑہ بنا رہا ،مگر گزرتے ایام کے ساتھ یہاں کا سیاسی پارہ اور زیادہ گرماتا جارہا ہے۔خاص طور پر بی جے پی اور برسر اقتدار ٹی ایم سی کے درمیان سیاست کی یہ لڑائی پرتشدد ہو تی جا رہی ہے۔ظاہر ہے اس کیلئے کسی ایک پارٹی کو مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں ہے لیکن م...

khidmat e khalq ramzan 2019 Timetable

Image

let us move to share happiness

Image

اپنی ثقافت کے بقا کیلئے پاور فل احتجاج

Image
ڈاکٹرشہاب الدین ثاقب ہندوستان ہی نہیں دنیا کے ہر بڑے ممالک میں حقوق کی پامالی،جبر استبداد،شروفساد اور ظلم و زیادتی  کے خلاف وہاں کے ذی ہوش عوام کی طرف سے پاورفل احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ہر عہد میں ایسے عوامی احتجاج نے حکومت اور انتظامیہ کو جھکنے پر مجبور کردیا ہے۔گزشتہ چند سالوں میںایسی بےنظیر تحریکیں اور مظاہرے ہوئے ہیں جنہوں نے حکومتوں کا تختہ پلٹ دیا ہے۔جنوری کے آخری عشرے میںتمل ناڈو  میںپونگل تہوار کے موقع پر ہونے والے بیلوں کے روایتی کھیل’ جلی کٹو‘‘پر عائد پابندی کو ہٹانے کیلئےچنئی کے مرینا بیچ پر ہونے والا احتجاج بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔اس احتجاج نے بھی نہ صرف ریاستی سرکار، بلکہ چنئی سے دہلی تک کے ایوان حکومت کی چولیں ہلادیں۔کیا نوجوان ، بوڑھے،کیا سماجی کارکن، سیاست داں اور فلمی دنیا کی مشہورشخصیات سب نے ایک سر میں جلی کٹو کی حمایت کی اورمظاہریں کی پیٹ تھپتھپائی،نتیجہ یہ ہواکہ آنا فانا میں نہ صرف تمل حکومت نے کئی اقدامات اٹھائے بلکہ وز اعلیٰ نے دہلی آکروزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی تو دوسری طرف وہاں کی نمائندگی کرنے والے ممبران پارلیمنٹ نے صدر جمہوریہ سے م...