Posts

BLANKETS DISTRIBUTED TO POOR IN MUZAFFAR PUR (2015)by khidmat e khalq trust india

Image
مظفر پور(اورائی)انسانیت اور انسانوں کی خدمت کا جذبہ جس کے اند رموجزن ہو وہ انسان بہت ہی عظیم اور فائق ہوتا ہے۔اس لئے اللہ کے ضرورت مند بندوں کی مدد اور ان کی خبر گیری  پر اسلامی تعلیمات میں بڑی توجہ دی گئی ہے۔ان خیالات کا اظہار خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے ایک پریس بیان میں کیا گیا ہے۔اطلاع کے مطابق ٹرسٹ کی جانب سے اور امام قاسم اسلامک ایجوکیشنل ویفیئر ٹرسٹ انڈیاکے تعاون سے امسال بھی سردی کے موسم میں غریب اور ضرورت مندوں میں کمبل تقسیم کیا گیا۔ اس موقع پرادارہ کے سکریٹری نے اپنے خطاب میں کہا  کہ خاص طور  پراہل ایمان کا دینی اور اخلاق فریضہ ہے کہ اللہ کے ان پریشان حال اور مجبور بندوں کا تعاون کریں جو اپنی بے بسی اور چالاری کی وجہ سے اپنی ضرورتوں کوپورانہیں کر پاتے۔ انہوں نے کہ کہاخدمت خلق بھی ایک بڑی عبادت ہے،جن لوگوں کو اللہ اسبات کی استطاعت عطا فرمائی ہے وہ اپنی حیثیت کے اعتبار سے غرییوں کی مدد کریں ۔ یہ کسی دینی تنظیم یا ادارہ کی ہی ذمہ داری نہیں بلکہ کوئی بھی ادارہ یا تنظیم صاحب خیر لوگوں کے تعاوہ سے ہی اسطرح کے کام کو انجام دیتی ہے۔ اگرہر صاحب استطاعت اپنی حیثیت کے اع...

نفرت بھرے دلوں میں محبت کی تلاش!

Image
ڈاکٹرشہاب الدین ثاقب ’بچو ہم ایک کھیل کھیلنے جا رہے ہیں ،جس کے آخر میں آپ کو ایک اہم درس ملے گا، کیا آپ یہ کھیل کھیلنے کیلئے تیار ہیں؟بچوں نے یک زبان ہو کر کہا’ جی بالکل‘!تب ٹیچر نے کہا آپ کل جب ا سکول آئیں تو اپنے ساتھ ایک شاپنگ بیگ میں اتنے ٹماٹر ڈال کرلائیں جتنے لوگوں سے آپ نفرت کرتے ہیں‘۔ دوسرے دن ہر بچے کے ہاتھ میں ایک شاپنگ بیگ تھا اور کسی میں ایک ٹماٹر ، کسی میں دو اور کسی میں پانچ ٹماٹرتھے۔ ٹماٹروں کی تعداد یہ ظاہر کررہی تھی کہ وہ کتنے لوگوں سے نفرت کرتےہیں۔ٹیچر نے سب بچوں سے کہا آپ لوگ اپنے اپنے شاپنگ بیگز کوبند کرلیں اور ان کو ہر وقت اپنے پاس رکھیں۔ چاہے آپ کلاس میں ہوں ، گھر میں ہوں، سورہے ہوں یاکھانا کھا رہے ہوں، یہ شاپنگ بیگ آپ کے پاس رہے اور ہاں یہ کھیل ایک ہفتہ کیلئے ہے۔ سب بچوں نے کہا’ جی ہم سمجھ گئے۔ یہ تو بڑا آسان سا کھیل ہے‘لیکن یہ آسان کھیل بچوں کیلئے بہت مشکل ثابت ہوا۔ دوسرے ہی دن ٹماٹروں سے بد بو آنا شروع ہوگئ، جن کے پاس زیادہ ٹماٹر تھے یعنی جو بچے زیادہ لوگوں سے نفرت کرتے تھے، ان کیلئے دہری مصیبت تھی۔ بدبو کے ساتھ وزن اٹھانا اور اسے ہر وقت اپنے پاس ر...
Image

بہارمیں ہندو مسلم پولرائزیشن کیلئےفرقہ پرستوں کی جد جہد

Image
’’کوئی بھی سیاسی پارٹی نہیں چاہتی کہ’ انسداد فرقہ وارانہ تشدد بل‘ پاس ہو اور نیا قانون بنے،ہندوستانی سیاست دانوں میں سیاسی قوت ارادی کی سخت کمی ہے، کیوں کہ اس سےفائدہ ہے سیاسی پارٹیوں کو، فائدہ ہے ان کے رہنماؤں کو۔ افسوس کہ جمہوریت میں آپ فسادات کرتے ہیں اور ووٹ ملتا ہے‘‘  حقوق انسانی کیلئے کام کرنے والی معروف وکیل ورندا گروور نےمذکورہ خیالات کا اظہار’کون ڈرتا ہے فرقہ وارانہ تشدد بل سے؟ کے عنوان سے ۸؍اگست ۲۰۱۴ء میں شائع بی بی سی ہندی کی ایک تجزیاتی رپورٹ میں کیا تھا ۔اس تناظر میںدہلی سے ممبئی اور یوپی سے بہار تک اورملک کے دوسرے حصوں کے موجودہ حالات پر غور کریں تو یہ بات بہت اچھی سمجھ میں آجاتی ہے کہ اب فرقہ وارانہ فسادات کی فصلیںباضابطہ اگائی جارہی ہیںاورکشت خون کا ماحول گر م کرکےہندوستان کے طول و عرض میں سیاست کی بساط بچھائی جارہی ہے۔ اتر پردیش کے ساتھ دہلی اور بہار کا ذکر اس لئے کیا کہ ان دونوں ریاستوں میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات یکے بعد دیگرے رونما ہوتے جا رہے ہیں۔۲۶؍مئی ۲۰۱۴ کو جب مرکزمیںمودی سرکاربنی ،شرپسندوں کوجیسے ایک طرح سے کھ...

مظفر نگرمیں’ کالج‘ کا قیام سرسید ؒ کے خوابوں کی سچی تعبیر !

Image
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی یوم سرسید سے محض چند ایام قبل مظفرنگر کے فساد متاثرہ ایک گاؤں’جولا‘ میں سرسید کالج کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔گزشتہ سال اتر پردیش کے ضلع مظفر نگر میں ہوئے بدترین فرقہ وارانہ فسادات نے نہ صرف درجنوں زندگیاں چھین لی اور ہزاروں افراد کوبے گھر و بے سہارا کردیا،بلکہ ایسے طلبہ و طالبات کی تعداد بھی ہزاروں میں ہےجو تعلیم جیسی بنیادی سہولیات سے پلک جھپکتے محروم کردیے گئے۔اس دوران جب گاؤں کے گاؤں کو شرپسندوں نے نذرِ آتش کرکے تباہ و برباد کردیا، اوران گاؤوں کے باشندے اپنی بیوی بچوں اور بچے کھچے اثاثوں کے ساتھ دوسرے محفوظ علاقوں میں ہجرت کرگئے ،ان لوگوں نے مختلف بے آب و گیاہ میدانوں اور جنگلوں میں پناہ لی،مگر ان کے بچے اور بچیاں جو کسی نہ کسی اسکول اور کالج میں زیر تعلیم تھے اچانک ان کی تعلیم کا سلسلہ منقطع ہوگیا۔یہ ان پر ستم ظریفی کی دوہری مار تھی۔ اس فسادنے نہ صرف شہر اور ضلع مظفرنگر کواپنی زد میں لے لیا،بلکہ مظفر نگر سے متصل اضلاع اور مسلمانوں کی بڑی آبادی کوبھی اس آگ کے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔شرپسندوں نے ہر وہ حربہ استعمال کیا جس سے کہ قوم مسلم تعلی...

Sacrificial Meat Distribution By Khidmat e Khalq Trust India

Image
خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے قربانی کا گوشت منتخب دیہی علاقوں میں منظم طریقے سے تقسیم کیاگیا مظفر پور:ہر سال کی طرح اس سال بھی سب کو عیدکی خوشیوں میں شریک رکھنے کے لئےخدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سے بہار،جھارکھنڈ اور دہلی کے منتخب علاقوں میں حسب استطاعت غریبوں اور ضرورت مندوں میں قربانی کا گوشت تقسیم کیا گیا۔ٹرسٹ کے زیر اہتمام یہ عمل گزشتہ سال سے شروع کیا گیا ہے جس کے تحت صاحب ثروت اور اہل خیر حضرات اپنی قربانی کرواتے ہیں اور ان کی قربانی کا یہ گوشت منتخب دیہی علاقوں میں منظم طریقے سے تقسیم کرادیا جاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں عید قربا کا یہ تحفہ دیا جاتا ہے وہ دل سے اپنے محسنین کو دعائیں دیتے ہیں اور خوشی خوشی اس تحفہ کو قبول کرتے ہیں۔اس طرح سے وہ بھی عید کی خوشی میں شریک ہوجاتے ہیں۔ ٹرسٹ کی پریس ریلیز کے مطابق امسال جموں کشمیر کے سیلاب زدہ علاقوں میں قربانی کا تقسیم کرنے کا ارادہ تھا مگر مناسب مقدار میں قربانی کا انتظام نہیں ہونے کی وجہ سےایسانہیں ہوسکا۔حالانکہ خدمت خلق ٹرسٹ ایسی جگہوں پر خصوصی توجہ دیتا ہے جہاں خدمت کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔پریس بیان کے مطابق قربانی کا گوشت ...
Image
کہ خوشی سے مر نہ جاتے،اگر اعتبار ہوتا! ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب اپنی زندگی میں شایدپہلی بار وزیر اعظم نریندر مودی نے علی الاعلان ملک کے مسلمانوں کی حب الوطنی پر کھل کراپنے خیالات کا اظہارکیا اور بہت ہی نپے تلے الفاظ اورانتہائی مستحکم اندازمیں انہوں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا : ’’بھارتی مسلمان بھارت کے لیے جئیں گے، بھارت کے لیے مریں گے، وہ بھارت کے لیے کبھی برا نہیں چاہیں گے، اگر کوئی بھی یہ سوچتا ہے کہ بھارتی مسلمان اس کے اشاروں پر ناچیں گے تو وہ خوابوں کی دنیا میں رہتا ہے۔‘‘ بس پھر کیا تھا ان کے اس بیان پر ملک بھرمیں جیسے بھونچال آگیا ہو،جیسے انہوں نے کوئی عجوبہ یا انہونی بات کہہ دی ہو،یا گویامسلمانوں کو ہندوستان سے وفاداری کی سند کی اشد ضرورت تھی اور وزیر اعظم نے وہ سرٹیفکٹ بی جے پی کی حکومت بنتے ہی عنایت کردی۔جبکہ اس تعلق سے ایماندای کی بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کی طرف سے کافی دیر سے آنے والا یہ دوراندیشانہ بیان سیاسی پارٹیوں کو ہضم نہیں ہو پا رہا ہے تومسلمان ان کے خیالات سےکس حد تک مطمئن اور کتنے خوش ہوںگے یہ کہنا مشکل ہے۔البتہ آر ایس ایس کے نظریات سے ہم آہنگ بھ...