Posts

طلاق ثلاثہ کی آڑ میںملت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش

Image
طلاق ثلاثہ کی آڑ میںملت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے سرگرم رکن پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار عالم مدنی   نےمسلم  پرسنل لابورڈ  کی دستخط مہم میں شریک ہونے کی اپیل کی  Add caption اکرام الحق سیتا مڑھی:ہندوستان میں مسلمانوں کی جو اقتصادی،تعلیمی اور معاشی حالت ہے اس پر سے سچرر کمیٹی کی رپورٹ پردہ اٹھا چکی ہے،افسوس کی بات یہ ہےکہ ان سفارشات پر نہ ہی پچھلی کانگریس حکومت نے توجہ دیا اور نہ ہی موجودہ بی جے پی سرکار توجہ دے رہی ہے،اس کے برعکس مسلمانوں کے شرعی امور میں مداخلت کر کے طلاق ثلاثہ کی آڑ میں مودی سرکار ملت میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ان خیالات کا اظہار خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے سرگرم رکن ویونیورسٹی آف بزنس اینڈ ٹیکنا لوجی  جدہ کے پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار عالم مدنی علیگ نے کیا۔ انہوں نے مزید کہاکہ ملک میں مہنگائی بے تہاشا بڑھ رہی ہے،بےروزگاری سے نوجوان طبقہ پریشان ہیں،عورتوں کی عصمت محفوظ نہیں ہے اورعدم بردشت کے معاملے بڑھتے جا رہے ہیں۔مودی جی نے اچھے دن کا وعدہ کیا تھا مگر آج وہ اپنے سبھی وعدے بھول گئے ہیں۔مرکز کی بی ...

مؤذن مرحبا بروقت بولا

Image
مؤذن مرحبا بروقت بولا ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب پوری مسلم امہ اس وقت تحسین و تبریک کی مستحق ہے۔ایسا اس لئے کہ یکسا ںسول کوڈ کے نفاذ کے مسئلہ پرحکومت کی عیاری اور مکاری کو سمجھتے ہوئے جس طرح سے مسلمانوں نے بلا کسی تفریق کے یک جٹ ہو کر مودی سرکار کے خلاف آواز بلند کی ہے اور ابھی تک سینہ سپر ہے اس سے اتنی بات تو طے ہےکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ جو بھی آئے، مگر ملت کے اتحاد نے ایک بار پھر سے ملک کے سیاست دانوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہےکہ ہندوستان میں مسلمانوں کو بائی پاس کرکے چلنا آسان نہیں ہے۔مسلمان سب کچھ برداشت کرلیں گے، لیکن پرسنل لا میں چور دروازے سے گھس پیٹھ کرنے کو وہ کسی قیمت پر برداشت نہیں کرسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے ملک کے ذی ہوش مرد و خواتین کو حکومت کی نیت کے بارے میں پتہ چلتا گیا،انہوں نے صدائے احتجاج بلند کرنے کو ضروری سمجھا اوراپنے گھروں سے نکل کر ملی قائدین کی آواز میں آواز لگانے لگے۔ بات صرف تین طلاق کی ہوتی توشاید اتحاد کی یہ بے نظیرمثال دیکھنے کو نہیں ملتی،کیوں کہ یہ ایک اختلافی مسئلہ ہے جس پرسبھی مسلک کے ماننے والے اپنے اپنےاعتبار سے عمل پیراں ہیں،جو ایک...

maut par siyasat ka ghenowna khel

Image
موت پر سیاست کا گھناؤنا کھیل موت دوست کی ہو یا دشمن کی ،کوئی پتھر دل انسان ہی ہوگا جس کااس غمناک خبر کو سن کر کلیجہ منہ کو نہیں آتا ہو،مگر سیاست ایک ایسی منڈی ہے جہاں موت پر بھی سودے بازی ہوتی ہے۔ آج عالمی سطح پر بالخصوص عالم اسلام پر ایک اچٹتی نظریں ڈالیں توشاید ہی چند ممالک ایسے بچ جائیں جہاں  موت پر سیاست نہیں ہورہی ہو۔کرسی اور اقتدار کے حصول کے لئےجاری موت کے اس کھیل کا الگ الگ نام دیا گیاہے۔کوئی ظلم کے خلاف تو کوئی انتہاپسندی کے خلاف معصوم لوگوں کو موت کے گھاٹ اتار رہاہے،یعنی دونوں طرف سے زندگی شکست کھارہی ہے ۔ بدقسمتی سے ہندوستان میںبھی یہ چلن بہت تیزی سے عام ہورہا ہے۔پہلے فرقہ وارنہ فسادات ہی نیتاؤں کو کرسی تک پہنچانےکے ذرائع اور اہم مدعے ہوا کرتے تھے جن کے سہارے برسوں تک حکمراں اور حزب اختلاف کے لیڈران اپنی اپنی سیاسی روٹیاںسینکتےتھے،اب جد ید دور میں جب  کہ سب کچھ بدل گیا ہےسیاست نے بھی اپنا پرانا چولا تبدیل کرلیا  ہے تو ایسا محسوس ہونے لگا ہےکہ جیسےموت پر گھناؤنا کھیل کا سلسلہ دراز ہوتا جا رہا ہے۔سرحد پر فوجی کی موت، دلت کی موت،خواتین کی موت،بچوں کی...

saiyan bhaye kotwal to dar kahe ka

Image
سیّاں بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب ’’دہلی پر پرتھوی چوہان کی حکمرانی کے ۸۰۰؍ سال کے بعد پہلی بار پوری طرح سے ہندوؤں کی حکومت بنی ہے‘‘لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی کی جیت سے پر جوش ہوکر یہ دعویٰ نومبر۲۰۱۴ء میں قومی راجدھانی دہلی میں منعقدہ ’ تین روزہ عالمی ہندو کانفرنس ‘ میں وشو ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل نے کیا تھا۔ بعدمیں اس بیان کو وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی جانب منسوب کرنے پر پارلیمنٹ میں خوب ہنگامہ ہواتھا اور ’آؤٹ لک‘ میگزین کو اس غلطی کے لئے معافی مانگی پڑی تھی۔سوال یہ نہیں ہے کہ یہ بات کس نے کہی،کیوں کہی اور کس نے معافی مانگی۔سوال یہ ہے کہ مئی ۲۰۱۴ء میں مودی حکومت کی تشکیل کے بعد سے ملک بھر کے جو حالات ہیں وہ اس خطرناک فکر کے موافق ہیں یا مخالف؟اس نکتہ پر اگر سنجیدگی سے غور کیا جائے تو ہندوستان کے موجودہ حالات کے پس منظر میں وی ایچ پی کے آنجہانی لیڈر کی بات سوفیصد درست معلوم ہوتی ہے اور کوئی شخص اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے میں ملک ہندوستان میں واقعی خالص ہندوؤں کی حکومت نہیںہے۔دہلی پر بی...

ہرپوربیشی کی عظیم المرتبت شخصیت ڈاکٹر حافظ عبدالعزیزکا انتقال

Image
مظفرپور،اورائی پریس ریلیز/ملت ٹائمز نیاگاؤں پنچایت واقع ہرپوربیشی کی عظیم المرتبت اور ہردل عزیزشخصیت جناب ڈاکٹر حافظ عبدالعزیزصاحب کا طویل علال ت کے بعد اپنے چھوٹے داماد مولانا اشرف علی قاسمی کے یہاں انتقال ہوگیا،اناللہ واناالیہ راجعون۔ان کی عمرتقریبا۹۰؍سال کی تھی اور پسماندگان میں دو صاحبزادے اور پانچ بیٹیوں کے علاوہ پوتے پوتیاں اور نواسے نوسیاں ہیں۔ڈاکٹرصاحب کے ایک انتہائی قریبی نے بتایاکہ ان کی تدفین کل صبح دس بجے ہرپوربیشی میں آبائی قبرستان میں عمل میں آئےگی۔حافظ عبدالعزیز کے انتقال کی خبرملتے ہی پورے علاقے میںرنج و غم کی لہر دوڑ گئی ۔جیسے جیسے یہ خبر پھیلتی رہی تعزیت کرنے والوں کی بھیڑجمع ہوگئی۔    ڈاکٹر حافظ عبدالعزیزکے سانحہ ارتحال پر ان کے پسماندگان بالخصوص مولانا اشرف علی قاسمی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئےخدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے سیکریٹری ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی نے اسے ذاتی سانحہ قراردیا۔انہوں نے کہا کہ حافظ صاحب علاقے اور گاؤں کی علمی تاریخ کے سلسلے میں چلتا پھر تا انسائیکلو پیڈیا تھے۔بہت سے واقعات کے وہ چشم دید تھے اور بہت ہی دلچسپ انداز میں اسے بیان...

Eid gift distribution 2016 By khidmat-e-khalq trust India -(03-07-2016) in Muzaffarpur Bihar (India)

Image
خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سےضرورت مندوں میں’عیدی‘ تقسیم  مسلمان عید الفطر سادگی کے ساتھ منائیں اور ضرورت مندوں کی ہر ممکن دست گیری کریں مظفر پور(اورائی):معروف سماجی و رفاہی تنظیم ’خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا‘کی جانب سے ہر سال کی طرح امسال بھی عیدالفطر کے موقع پر ضلع کے اورائی بلاک واقع نیا گاؤں پنچایت کے ہر پور بیشی اور اطراف کے نصف درج گاؤںمیں ضرورت مندوں میں ’عیدی ‘تقسیم کی گئی۔ٹرسٹ کی پریس ریلیز کے مطابق ’عیدی‘ میں اس بار کپڑے اورسوئی کے علاوہ فی کس دو سوروپے بھی چھوٹی موٹی ضرورت  کی تکمیل کیلئے دیے گئے۔ خدمت  خلق ٹرسٹ کی جانب سے ہر سال عید الفطر اور عیدالاضحی کے موقع پر پرغریبوں،یتیموں ،بیوگان اور مجبور و بےسہارا افراد کی مدد کی جاتی ہے۔ اس عیدی سےان کی غربت تو کم نہیں ہوتی لیکن عید کے روز وہ بھی اپنے بچوں کے ساتھ نئے کپڑے پہن کر  خوشیاںسکیں گے  ۔کیوں کہ دوسروں کے دکھ، درد اور خوشیاں بانٹ کر پیغمبر اسلام  ؐ کے اسوہ حسنہ پرعمل پیرا ہونا ہی راہ نجات ہے ۔ خدمت حلق ٹرسٹ انڈیا کی جانب سےاس بار عیدی میں،قمیص ،ساڑی،لنگی،قم...

!my article :khamosh hi rehte to acha tha(خاموش ہی رہتے تو اچھا تھا)

Image
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب فتنہ و فساد میں اس طرح رہو جس طرح اونٹ کا وہ بچہ جس نے ابھی اپنی عمر کے دو سال ختم کئے ہوں کہ نہ تو اس کی پیٹھ پر سواری کی جاسکتی ہے اور نہ اس کے تھنوں سے دودھ دوہا جاسکتا ہے  خلیفۃ المسلمین سیدناحضرت علی کرم اللہ وجہہؓ کے اس پاک ارشاد کا مطلب یہی ہے کہ شرو فساد کے وقت انسان اس قدر ہوشیار رہے کہ لوگ اسے استعمال نہ کرنے پائیں اور اس کیتوسط سے فتنہ کی ہوا کو مزیدتیز نہ کرسکے۔اس وقت ہندوستا ن میں بی جے پی اور آرایس ایس کی حکومت کے پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو امیرالمومنین حضرت علیؓ کے قول مذکورپر عمل کرنے میں ہی صد فیصد عافیت ا ورنجات ہے۔ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں سنگھ کے سب سے قابل رضاکار اور سابق پرچارک نریندر دامودرداس مودی کی قیادت میں بی جے پی کی تاریخی کامیابی کے بعد اقتدار کی باگ ڈورجب کانگریس سے منتقل ہو کر آر ایس ایس کے ہاتھ میں آگئی ،تواسی وقت سے ہندوستان میں نت نئے شوشوں،فتنوں اور نئے نئے تنازعات کا آغاز ہو گیا ،اور ان سب بکھیڑوں میں کسی نہ کسی صورت میں نشانے پر مسلمان ہی رہے۔ اقلیتوں اور دلتوں پر زیادتی،لو جہاد،گھر واپسی،بہو لاو، بیٹی بچ...