Posts

taaziyat :ml asrarul haq qasmi

Image
ملت اسلامیہ کے سچے ہمدرد و بے لوث خادم حضرت مولانا محمد اسرارالحق قاسمیؒ کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ  مشہور رفاہی تنظیم خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کا اظہارِ تعزیت گرامی قدر مولاناسعود عالم ندوی صاحب،جناب فہد عالم صاحب/مولانا نوشیرعالم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔اللہ رب العزت سے امید واثق ہے کہ آپ حضرات بعافیت ہوں گے۔ ۷؍دسمبر ۲۰۱۸ء کی صبح جب آنکھ کھلی تو سب سے پہلے یہ جانکاہ خبر ملی کہ ملت اسلامیہ کے سچے ہمدرد اوربے لوث خادم حضرت مولانا محمد اسرارالحق قاسمی صدر آل انڈیا ملی و تعلیمی فاؤنڈیشن و رکن پارلیمنٹ(لوک سبھا) اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔  إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔ بلاشبہ حضرت کا سانحہ ارتحال ایک عہد کا خاتمہ ہے۔بالخصوص دینی،علمی،ملی ،سیاسی،سماجی اوردعوتی و اصلاحی حلقوں میں آپ کے جانے سے جو خلاپیدا ہواہے اس کی تلافی ممکن نہیں۔حضرت مولانا کا یہ وہ خاص وصف تھا جس کی وجہ سے آج پوری ملت سوگوار ہےاور سبھی کو آپ کی جدائی کا غم یکساں ستا رہاہے۔ کسی کویقین نہیں ہوتا کہ دیر رات اصلاح معاشرہ اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ...

خیموں کا شہر مظفر نگر

Image
مبصر: نوراللہ جاوید قاسمی ہندوستان کی آزادی کے بعد سے ہی سیاسی اغراض و مقاصد کیلئے انسانی لاشوں کا ڈھیڑ جمع کرنا سیاست دانوں کا مشغلہ رہا ہے ۔سالوں سے ایک ساتھ رہنے والے ہندئو اور مسلمان کے درمیان ضرورت اور وقت کے تقاضے کے مطابق محبت اور نفرت کی دیواریں کھڑی کی جاتی رہی ہیں ۔سچ کہا ہے کسی نے فرقہ وارانہ فسادات ہوتے نہیں ہیں، بلکہ نفرت کی چنگاری کو ہوا دی جاتی ہے ،پھر اس کے بعد انسانی لاشوں کا ڈھیڑ جمع کرکے اقتدار کے زینے طے کیے جاتے ہیں ۔ اس طرح کے کاروبار سے فصل کاٹنے والوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں کہ اس کی وجہ سے انسانیت کس قدر ذلیل وخوار ہوتی ہے اور وطن عزیزہندوستان کی دنیا میں جگ ہنسائی ہوتی ۔ اس کے نتیجے میں زندگیاں کتنی مشکل ہوجاتی ہیں ،ہزارہا ہزارگھر برباد ہوجاتے ہیں ،ہنستا کھیلتا خاندان بکھرجاتا ہے ۔کل تک پختہ گھروں میں رہنے والے اچانک خیموں میں پناہ گزیں ہونے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب قاسمی کی مرتب کردہ کتاب ’’خیموں کا شہر مظفر نگر ‘‘گزشتہ سال کے اخیر میں پارلیمانی انتخابات میں سیاسی برتریت کیلئے نفرت کے سوداگروں نے فرقہ وارانہ تشدد کی ای...

تلنگانہ میں ٹی آر ایس اور ایم آئی ایم اتحاد کیوں ہے خاص؟

Image
  ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب اس وقت ہندوستان کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں،ان میں سے مدھیہ پردیش، اتراکھنڈ اور میزورم میں انتخابات مکمل ہوچکے ہیں، جبکہ تلنگانہ اور راجستھان میں ۷؍دسمبر کو ایک مرحلہ میںووٹنگ ہوگی ۔پانچوں ریاست کے انتخابی نتائج ۱۱؍دسمبر کو آئیں گے۔اس لئے سیاسی رہنماؤں کی نظر یںمؤخر الذکر ریاستوں پر مرکوز ہیں۔ تلنگانہ اور راجستھان دونوں ریاستوں میں انتخاب کا فی دلچسپ ہے۔اس کی وجہ یہ ہےکہ ایک طرف جہاں تلنگانہ کے قیام کے بعد دوسری مرتبہ اسمبلی کے انتخابات ہو رہے ہیں اور برسر اقتدار پارٹی تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس)کو سخت چیلنج کا سامنا ہے، اسی طرح راجستھان میں بی جے پی کی کشتی بھنور میں ہے۔وہاں سے جو رپورٹیں آرہی ہیں اس میں بی جے پی کے لئے کچھ خاص نہیں ہے ، پارٹی شکست کے دہانے پرکھڑی ہے۔حالانکہ وزیر اعظم نریندر مودی ،صدر امت شاہ ،راجناتھ سنگھ،سشماسوراج اور یوگی ادیتہ ناتھ سمیت بی جے پی نےبڑ ےسورماؤں کوراجستھان کی جنگ جیتنے کیلئے لگادیا۔آر ایس ایس سمیت دائیں بازو کی دیگر تنظیموں کی جو کوششیں ہیں وہ الگ۔   تلنگانہ ک...

مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ

Image
مولانا اسرارالحق قاسمی کا انتقال ایک عہد کا خاتمہ   مشہور رفاہی تنظیم خدمت خلق ٹرسٹ انڈیا کے ارکان و ذمہ داران کا اظہارِ تعزیت نئی دہلی(آئی این این/ ملت ٹائمز ) عظیم ملی رہنما و رکن پارلیمنٹ مولانا محمد اسرارالحق قاسمی کا انتقال دینی ، ملی ، سیاسی اور سماجی حلقوں میں بڑا نقصان ہے ۔ ان کے انتقال سے جو خلاء پیدا ہواہے اس کا پر ہونامشکل نظر آتا ہے ، ان کے انتقال سے پوری ملت سوگوار ہے ۔ یقین نہیں ہوتا کہ دیر رات اصلاح معاشرہ اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عوام کو تلقین کر نے والی شخصیت صبح کا سورج نہیں دیکھ پائے گی،لیکن یہ قدرت کا نظام ہے اس پر یقین اور ایمان دونوں ضروری ہے۔ان خیالات کے اظہار مشہور رفاہی تنظیم خدمت خلق انڈیا کے ذمہ داران نے اپنے تعزیتی پیغام میں کیا ہے ۔میڈیا کے لئے جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا ہےکہ مولانا فقیر صفت انسان تھے اور بڑی بے نیازی سے قوم و ملت کی خدمت انجام دے رہے تھے ۔ زندگی کے آخری چند گھنٹوں میں بھی دین کی خدمت کی اور عوام کو حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تلقین کر تے رہے ۔مولانا صبر و استقلال کے پیکر تھے، ہمیشہ اپنے کام پر...

بہار میں دنگائیوں کو درندگی کی کھلی چھوٹ!

Image
ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب  ’’ یہ چونکانے والی بات ہے کہ منجو ورما کو تلاش نہیں کیا جا سکا، کمال ہے۔ کسی کو یہ نہیں معلوم کہ سابق وزیر کہاں ہیں۔ بہار حکومت کو اس معاملے میں جواب دینا ہوگا۔بہت اچھا، کابینہ وزیر فرار ہیں۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ سابق کابینہ وزیر فرار ہو اور کسی کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کہاں ہیں۔ آپ کو اس معاملےکی سنجیدگی کا علم ہے کہ کابینہ وزیر فرار ہیں۔ اٹس ٹو مچ۔‘‘ دراصل سپریم کورٹ نے گزشتہ دن مظفر پور جنسی استحصال معاملے میں سابق وزیر منجو ورما کو کئی ماہ بعد بھی گرفتار کیےجانے میں ناکام رہنے پر بہارپولیس کی نا اہلی پر سخت پھٹکار لگائی اور ڈی جی پی کو بذات خود عدالت میں پیش ہونے کی ہدایت دی ۔ عدالت عظمیٰ کے اس تبصرے کی روشنی میں بہار پولیس کی نااہلی کے ایک اور واقعہ کو دیکھیں تو بات پوری طرح سمجھ میں آجائے گی کہ آخر کار بار بار سپریم کورٹ بہار پولیس کی کیوں سرزنش کررہا ہے۔ بہار کے ضلع سیتامڑھی میں گزشتہ ماہ بے رحمی سے قتل  کیےگئے زین الحق انصاری کے معاملے میں پولیس نے ابھی تک کوئی کارروائی نہیں کی،سبھی قاتل پولیس کی گرفت سے باہر ہیں ۔اس مع...

عدلیہ سے ٹکراؤکا ماحول بنانے کی خطرناک کوشش

Image
Dr Shahabuddin Saqib ڈاکٹر شہاب الدین ثاقب ہندوستان میں ایک ایسا قابل فخر و باوقار عدالتی سسٹم ہے جس کی مثالیں دی جاتی ہیں ،انصاف کا مندر کہا جاتاہے، مگر گزشتہ چند ماہ سے عدالت کی مخالفت عام بات ہو گئی ہے۔جیسے یہ کوئی جرم نہیں ہو،پہلےسبھی ہندوستانی عدالت کے ذریعہ سنائے گئے فیصلوں کا کھلے دل سے احترام کرتے تھے اور اس پر اظہار خیال کرنے سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کرتے تھےکہ کہیں توہین عدالت کے زدمیں نہ آجائیں۔اس کی وجہ یہ ہےکہ انہیں یہ بات اچھی طرح سے معلوم ہےکہ اگر ایک عدالت کی کارروائی سے وہ مطمئن نہیں ہیں تو ملک کی دوسری چھوٹی بڑی عدالتوں کے دروازے ان کے لئے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ایک مضبوط عدالتی سسٹم ہونے کی وجہ سے انہیں یہ یقین بھی ہوتاہےکہ دیر یاسویر کہیں نہ کہیں سے انصاف کی لڑائی میں انہیں کامیابی ضرور ملےگی ،یہ سوچ کر وہ مایوس نہیں ہوتے۔کئی باردیکھا گیا ہےکہ  بہت سی پیچیدگیوں کے باعث طویل مدت تک عدالتوں میں زیر التوا رہنے والے کیسزمیںجو فیصلہ سامنے آیا ،اس  پر متاثرین نے ٹھنڈی سانس لی اور فیصلے کے بعد انصاف کے اس مندرکے تئیں ان کے اعتماد میں استحکام آیا۔تاہم پچھلےماہ ...

اپنے ایک نکاتی ایجنڈہ پر گامزن بی جےپی

Image
DR SHAHABUDDIN SAQIB QASMI ’’ بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد سے سماجی شعبوں سے توجہ ہٹی ہے، ملک میں ضروری اور بنیادی مسائل پر توجہ نہیں دی جا رہی ہے،چیزیں بہت خراب ہو گئی ہیں، ہم نے تعلیم اور صحت میں بقدر ضرورت کام نہیںکیا۔۲۰۱۴ء کے بعد سے ان شعبوں میں ہم غلط سمت کی طرف گامزن ہیں۔ہندوستان میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت کے باوجود۲۰؍ سال پہلے اس شعبے کے چھ ممالک میں ہندوستان سری لنکا کے بعد دوسرا بہترین ملک تھا لیکن اب یہ دوسرا بدترین ملک بن چکا ہے۔ہندوستانی ان چیزوں پر فخر  ضرورکریں جو ہمارے پاس ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ بہت سی چیزوں پر شرمندہ ہونے کی بھی ضرورت ہے۔‘‘یہ خیالات ہیںنوبل انعام یافتہ ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کے۔دہلی میں ۸؍جولائی کو اپنی کتاب کی رسم اجرا کی تقریب میں انہوں نے مودی حکومت کی جن ناکامیوں کی طرف اشارہ کیا ہےاسے نظر انداز کرکے بی جےپی ۲۰۱۹ء کے لوک سبھا انتخابات میں کانگریس اتحاد کو بہ آسانی شکست دینے کے خواب کو پورا نہیں کر سکتی ہے۔   بھارتیہ جنتا پارٹی کی حالیہ سیاسی سرگرمیوں کا جائزہ لیں تو یہی اندازہ ہوتا ہےکہ اس کے پاس مشن ۲۰۱۹ء کیلئے کوئی خاص ای...